خیبر ایجنسی کو کس طرح موہن جو دڑو میں تبدیل کردیا گیا

آج سے تقریباً 13 سال پہلے ضلع نوشہرہ سے پاکستانی ایجنسیوں نے ایک بندہ خیبر ایجنسی لیکر آیا جن کا نام تھا مفتی منیر شاکر اور ان کو خیبر ایجنسی میں پیر سیف الرحمان کی خلاف لانچ کیا پیر سیف الرحمان کا تعلق صوفی فرقے سے تھا جب کہ مفتی منیر شاکر کا تعلق سخت سلافی پنج پیری فرقے سے دونوں کو ایف ریڈیو کو لانچ کرنے کی آزادی مل گئی آپ کو شائد پتہ ہو یا نہ ایف ایم ریڈیو کے زبردست آلات لاہور میں ملتے ہیں ادھر سے اس سب کا انتظام ہوا ۔

چند ہفتوں بعد دونوں نے ایکدوسرے کو کافر کہلوانا شروع کیا حالات اس حد تک پہنچ گئے کہ ایک نے اپنا لشکر جن کا نام تھا لشکر اسلام اور دوسرے نے انصار الاسلام نام سے تنظیمں بنائی اور ایدکدوسرے پر حملے شروع کئے جن کے نتیجے میں تیراہ اور گردو نواح سے ہزاروں قبائل بے گھر ہوگئے اس وقت نے علاقے کے جرگے کا کوئی اثر رسوخ رہا اور نہ ان ملک صاحبان کا جو اپنے قبائل کے درمیان صلح کرواتے اور ان کے لئے فیصلے کرتے ان دو گروہوں کے درمیان جنگ نے خیبر ایجنسی میں طالبان کو جگہ دی اور ان کے پیچھے پھر آرمی آگئی خیبر ایجنسی میں آرمی کی موجودگی میں بے گناہ قبائلی عمائدین کے گردن اڑا دی گئی اس وقت کون ایسا نہیں تھا کہ خیبر ایجنسی میں قصابوں کے خلاف احتجاج کریں ۔

باڑہ بازار جو اس علاقے کا سب سے بڑا تجاری مرکز تھا ختم ہوگیا اس وقت کوئی ایسا ملک یا قبیلہ نہیں تھا کے اپنے کاروباری مراکز کی تباہی پر احتجاج کرتا اس وقت سے لیکر اج تک نام نہاد اپریشنز ہوتے رہتے ہیں لیکن دہشتگرد ختم ہونے کا نام نہیں لیتا اس وقت سے لیکر آج تک خیبر ایجنسی میں پشتونوں کی گردنیںُ اڑتی رہیں اس وقت سے لیکر آج تک خیبر ایجنسی کے بچوں کے سکول تباہ ہوتے رہے لیکن کسی ایک ملک یا قبیلے کے لوگوں نے اس ظلم و بربریت پر ایسی خاموشی اختیار کی ہے جو بندے کو اس شک میں مبتلا کیا ہے کہ یا تو ہمارے مشران طالبان کے ایجنٹ ہے یا پاکستانی ایجنسیوں کے ۔

میں ہرگز کسی قبائل کو اینٹی پاکستانی نہیں بنا رہا ہوں بلکہ میں اس چوہے اور بلی کو ضرور ایکسپوز کرونگا جن کے درمیان جنگ نے ہماری ایک نسل کو تباہ کیا خیبر ایجنسی میں کوئی ایسا گاؤں نہیں کوئی ایسا خیل قبیلہ نہیں جس نے آرمی کی موجودگی میں اپنی جانوں کی قربانیاں پیش نہیں کی ہو۔
میں ہرگز قبائلی عوام کو اینٹی پاکستان بننے کی کوشش نہیں کرونگا لیکن ایک قبائلی کی خیثیت سے ان کو ضرور بولوں کا کہ اس وقت تمہارے ملکان صاحبان کدھر تھے جو فوج سے پوچھ سکتے کہ تمہارے ؛تور تندر ؛ نامی نام نہاد اپریشنوں کی باوجود ہمارے سکولیں، ہمارے کاروبار ہمارے گھر کیوں راکھ ہورہے ہیں ۔
کیا ایک پاکستانی کی حیثیت سے ان کا یہ حق نہیں بنتا کی اپنی تباہی پر خاموشی تھوڑتے؟

خیبر ایجنسی میں دنیا کی لمبی ترین کرفی لگی ہے اتنی لمبی کرفی جو تقریباً دس سال پر محیط تھی جن کی مثال ناذیوں کے ہاتھوں روسی شہر سٹالین گراڈ اور لینن گراڈ میں نہیں ملتی ۔

کیا اس وقت ان قبائلی مشران کا فرض نہیں بن سکتا کہ اپنی اوپر اس تاریخی ظلم پر احتجاج کرتے ؟؟

قبائلی بھائیوں اگر آپ اس ظلم کے خلاف کچھ نہیں بول سکتے لیکن اپنے ان مشران کی خلاف تو بول سکتے ہیں کو تمہاری نسلوں کو اپنے دو ٹکوں کی ماجب پر قربانی کے بھنٹ چڑھاتے ہیں ۔

آپ کی گلیاں ویران ہوگئی گاؤں اجڑ گئے لاکھوں آفریدی ،ملا گوری اور شینواری ؛بیا درغلم ؛ خیبر ون اور خیبر ٹو جیسے نام نہاد اپریشنوں میں بے گھر ہوگئے کیا آپ کی یہ حق نہیں بنتی کے فوج سے پوچھ لیتے کہ بھئی اپ کے پہلے آپریشن ؛تور تندر ؛ میں دہشتگرد حتم کیوں نہیں ہوئی ؟ کرفیاں کیوں ختم نہیں ہوئی ؟ ہمارے بچوں کی سکولوں کی تباہی کیوں نہیں روکی ؟ ہمارے بچوں کو اعوا کرکے سربریدہ لاشوں کی ملنے کا سلسلہ کیوں نہیں رکا ؟؟

میں آج اپنی قبائیلی نوجوانوں کو کہہ رہا ہوں کے خدارا ان نام نہاد ملکان کے مشوروں پر عمل کرنا چھوڑو ان ملکان کو ماجب ملتی ہے اور ان کے بدلے تمہیں قربانی کے بکرے بناتے ہیں اور بحیثیت قبائلی نوجوان اپنی ان قوم کی خدمت کروجو کھبی پیر سیف الرحمان اور مفتی منیر اور منگل باغ کی درمیان یا ؛بیا درغلم ؛ جیسے نام نہاد اپریشنوں میں تباہ ہورہے ہیں ۔
قبائلیوں نمک حرام نہیں بنو دس سال تک امریکی عوام کی طرف سے USAID کے گھی کے ڈبے خالی کئے اور اب گالیاں بھی امریکہ کو دے رہے ہو. یہ جنگ نہ ہماری تھی نہ ہے اور نہ ہوگی. ہمیں معلوم ہے کہ ہم کتنے بہادر ہیں کرایہ لیکر جلوس نکالنے سے امریکہ کو شکست نہیں دی جاسکتی. امریکہ سے ہمارا کیا لینا دینا. اپ لوگ کیا سمجھ رہے ہو کہ ٹرمپ اتنا فارغ ہے کہ وہ ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر اپ کے جلوس دیکھ رہا ہوگا. اور پھر ایک اعلی سطح کا میٹنگ بلائے گا اور یوٹرن لیکر پاکستان سے معافی مانگے گا. پھر آپ کی بہادری سے متاثر ہوکر پاکستان فاٹا سے FCR کا قانون ہٹادے گا.

ہاں اور اگر اپ اس دس سالہ تباہی کا ذمے دار پاکستانی ایجنسیوں کے بجائے پولیٹکل ایجنٹ جیسے بدمعاشوں کے بجائے اور فرقہ پرست دہشتگردوں کے بجائے اور طالبان کے بجائے امریکہ کو دشمن سمجھتے ہو تو آپ کو پھر اسلام آباد جانا چاہئے طورخم میں تو نہ امریکی ایمبیسی ہے نہ کوئی قونصلیٹ اور ادھر امریکی ایمبیسی کے سامنے احتجاج کرو جو بلیک واٹر کے اہلکاروں سے بھری پڑی ہےجن کو پاکستان آنے کی اجازت آپریشن ؛بیا درغلم ؛ کی کمانڈروں نے دی ہے۔

خیبر آفریدی

اړوندې ليکنې د ليکوال نورې ليکنې

تبصره وليکئ

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.