سپریم کورٹ نے پانامہ کیس کا فیصلہ سنا دیا

پسریم کورٹ نے پانامہ کیس کا فیصلہ سنا دیا

 اسلام آباد:

(دی پشتون ایکسپریس )

سپریم کورٹ نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے کیس پانامہ کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے ۔ سپریم کورٹ میں فیصلہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پڑھ کر سنایا۔ جسٹسد آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ پانامہ کیس کا فیصلہ تین دو کی اکثریت کا ہے۔ رقم کیسے قطر گئی تحقیقات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب چئیر مین تحقیقات پر غیر رضا مند پائے گئے۔ نیب کے چئیر مین تحقیقات کے لیے آمادہ نہیں تھے۔
نیب چئیر مین اپنا کام کرنے میں ناکام رہے ،۔ڈی جی ایف آئی اے وائٹ کالر کرائم کی تحقیقات میں ناکام رہے۔نیب چئیر مین ناکامی کے سبب سپریم کورٹ نے معاملے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دے دیا ۔ وزیر اعظم، حسن اور حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔

جے آئی ٹی ہر دو ہفتے کے بعد عدالت کے اسی بنچ کے سامنے رپورٹ پیش کرے گی۔جے آئی ٹی تحقیق کرے گی کہ حسن اور حسین نے فلیٹ کیسے خریدے؟مشترکہ تحقیقاتی ٹیم پانامہ کیس کی تحقیقات کرے گی ۔
پانامہ کی تحقیقات کے لیے ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔جے آئی ٹی میں ایف آئی اے ، نیب ایم آئی اور ایس ای سی پی کو شامل کیا جائے۔کیس کا فیصلہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ جسٹس اعجاز افضل نے تحریر کیا۔فیصلہ 545صفحات پر مشتمل ہے ۔یاد رہے کہ پانامہ لیکس میں آف شور کمپنیوں کے انکشاف پرپی ٹی آئی چئیر مین عمران خان،عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید اورامیر جماعت اسلامی سراج الحق نے نواز شریف، اسحاق ڈار اور کیپٹن صفدر کی نا اہلی کی درخواستیں دائر کی تھیں۔
کیس کی 35سماعتوں میں 25ہزار دستاویزات پیش کی گئیں۔ سپریم کورٹ نے 23فروری2017ءکو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ جس کے بعد آج سپریم کورٹ کے کورٹ روم نمبر ون میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5رکنی بنچ نے پانامہ کیس کا فیصلہ سنایا۔لارجر بنچ میں جسٹس اعجاز افضل،جسٹس گلزاراحمد ،جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل ہیں۔

You might also like More from author

تبصره وليکئ